EN हिंदी
ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو | شیح شیری
sitam-taraaz talak zaKHm-ashna bhi to ho

غزل

ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو

خالد احمد

;

ستم طراز تلک زخم آشنا بھی تو ہو
افق افق شفق درد کی حنا بھی تو ہو

خلا بہ پا ہوں مگر دشت دشت خاک بہ سر
کچھ اپنا آپ مٹانے کی انتہا بھی تو ہو

میں خاک بن کے فضا میں بکھر بکھر جاؤں
کسی کے پاؤں تلے زینۂ صبا بھی تو ہو

ہوس کی برف بدن سے پگھل تو جائے مگر
شرر شرر کوئی پیکر کبھی چھوا بھی تو ہو

نظر نظر میں ہزاروں سوال ہیں لیکن
فلک سے کوئی مری سمت دیکھتا بھی تو ہو

نئی گھڑی نئے صحرا نئے افق لائی
کسی طرح حق آشفتگی ادا بھی تو ہو

برہنگی مرا مذہب مرا سلوک بنے
مگر بدن پہ کسی قدر کی ردا بھی تو ہو

مری وفاؤں کی گہرائیوں کا کھوج تو لے
وہ بحر حسن کبھی ظرف زما بھی تو ہو

فقط بیان حقیقت نہیں ہے منزل حق
جہت شناس وہ ہے جو جہت نما بھی تو ہو

ترے سوا بھی کسی کو کہوں ندیم مگر
ترے سوا کوئی شائستہ وفا بھی تو ہو