EN हिंदी
ستارے ہی صرف راستوں میں نہ کھو رہے تھے | شیح شیری
sitare hi sirf raston mein na kho rahe the

غزل

ستارے ہی صرف راستوں میں نہ کھو رہے تھے

جمال احسانی

;

ستارے ہی صرف راستوں میں نہ کھو رہے تھے
چراغ اور چاند بھی گلے مل کے رو رہے تھے

نگاہ ایسے میں خاک پہچانتی کسی کو
غبار ایسا تھا آئینے عکس کھو رہے تھے

کسی بیاباں میں دھوپ رستہ بھٹک گئی تھی
کسی بھلاوے میں آ کے سب پیڑ سو رہے تھے

نہ رنج ہجرت تھا اور نہ شوق سفر تھا دل میں
سب اپنے اپنے گناہ کا بوجھ ڈھو رہے تھے

جمالؔ اس وقت کوئی مجھ سے بچھڑ رہا تھا
زمین اور آسماں جب ایک ہو رہے تھے