EN हिंदी
ستارہ ایک بھی باقی بچا کیا | شیح شیری
sitara ek bhi baqi bacha kya

غزل

ستارہ ایک بھی باقی بچا کیا

مینک اوستھی

;

ستارہ ایک بھی باقی بچا کیا
نگوڑی دھوپ کھا جاتی ہے کیا کیا

فلک کنگال ہے اب پوچھ لیجے
سحر نے منہ دکھائی میں لیا کیا

سب اک بہرے فنا کے بلبلے ہیں
کسی کی ابتدا کیا انتہا کیا

جزیرے سر اٹھا کر ہنس رہے ہیں
ذرا سوچو سمندر کر سکا کیا

خرد اک نور میں ضم ہو رہی ہے
جھروکا آگہی کا کھل گیا کیا

بہت شرماؤ گے یہ جان کر تم
تمہارے ساتھ خوابوں میں کیا کیا

اسے خودکش نہیں مجبور کہئے
بدل دیتا وہ دل کا فیصلہ کیا

برہنہ تھا میں اک شیشہ کے گھر میں
مرا کردار کوئی کھولتا کیا

اجل کا خوف طاری ہے ازل سے
کسی نے ایک لمحہ بھی جیا کیا

مکیں ہو کر مہاجر بن رہے ہو
میاں یک لخت بھیجا پھر گیا کیا

خدا بھی دیکھتا ہے دھیان رکھنا
خدا کے نام پر تم نے کیا کیا

اٹھا کر سر بہت اب بولتا ہوں
مرا کردار بونا ہو گیا کیا