EN हिंदी
سسکتی رت کو مہکتا گلاب کر دوں گا | شیح شیری
sisakti rut ko mahakta gulab kar dunga

غزل

سسکتی رت کو مہکتا گلاب کر دوں گا

راحتؔ اندوری

;

سسکتی رت کو مہکتا گلاب کر دوں گا
میں اس بہار میں سب کا حساب کر دوں گا

میں انتظار میں ہوں تو کوئی سوال تو کر
یقین رکھ میں تجھے لا جواب کر دوں گا

ہزار پردوں میں خود کو چھپا کے بیٹھ مگر
تجھے کبھی نہ کبھی بے نقاب کر دوں گا

مجھے بھروسہ ہے اپنے لہو کے قطروں پر
میں نیزے نیزے کو شاخ گلاب کر دوں گا

مجھے یقین کہ محفل کی روشنی ہوں میں
اسے یہ خوف کہ محفل خراب کر دوں گا

مجھے گلاس کے اندر ہی قید رکھ ورنہ
میں سارے شہر کا پانی شراب کر دوں گا

مہاجنوں سے کہو تھوڑا انتظار کریں
شراب خانے سے آ کر حساب کر دوں گا