EN हिंदी
سپاہ عشرت پہ فوج غم نے جو مل کے مرکب بہم اٹھائے | شیح شیری
sipah-e-ishrat pe fauj-e-gham ne jo mil ke markab baham uThae

غزل

سپاہ عشرت پہ فوج غم نے جو مل کے مرکب بہم اٹھائے

بقا اللہ بقاؔ

;

سپاہ عشرت پہ فوج غم نے جو مل کے مرکب بہم اٹھائے
ادھر تو نالے کا تاشا کڑکا ادھر فغاں نے علم اٹھائے

اس اشک و لخت جگر سے اک ہی فقط نہ مردم کو فائدہ ہے
جو در کے رولے عدد کسی نے تو لعل کے بھی رقم اٹھائے

سبب رقیبوں کے بزم میں اب گئی وہ آپس کی ہم نشینی
ہم آن بیٹھے تو اٹھ گیا وہ وہ آن بیٹھا تو ہم اٹھ آئے

تہی کف آئے تھے ہم عدم سے چلے بھی یاں سے تو دست خالی
نہ توشہ واں سے لیا تھا زر کا نہ ساتھ یاں سے درم اٹھائے

بقاؔ جو راہی ہوئے عدم کے تو وقفہ ہرگز کرو نہ دم کا
یہ راہ ہستی کی پر خطر ہے چلو یہاں سے قدم اٹھائے