EN हिंदी
سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے | شیح شیری
silsila raushan tajassus ka udhar mera bhi hai

غزل

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے

راجیندر منچندا بانی

;

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے
اے ستارو اس خلا میں اک سفر میرا بھی ہے

چار جانب کھینچ دیں اس نے لکیریں آگ کی
میں کہ چلایا بہت بستی میں گھر میرا بھی ہے

جانے کس کا کیا چھپا ہے اس دھوئیں کی صف کے پار
ایک لمحے کا افق امید بھر میرا بھی ہے

راہ آساں دیکھ کر سب خوش تھے پھر میں نے کہا
سوچ لیجے ایک انداز نظر میرا بھی ہے

اب نہیں ہے اس کی کھڑکی کے تناظر میں بھی چاند
ایک پر اسرار موسم سے گزر میرا بھی ہے

یہ بساط آرزو ہے اس کو یوں آساں نہ کھیل
مجھ سے وابستہ بہت کچھ داؤ پر میرا بھی ہے

جینے مرنے کا جنوں دل کو ہوا بانیؔ بہت
آسماں اک چاہیے مجھ کو کہ سر میرا بھی ہے