EN हिंदी
سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے | شیح شیری
sina to DhunD liya muttasil apna humne

غزل

سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے

حسرتؔ عظیم آبادی

;

سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے
نہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نے

عہد کیا کر کے ترے در سے اٹھے تھے قسمت
پھر دکھایا تجھے روئے خجل اپنا ہم نے

میری آلودگیوں سے نہ کر اکراہ اے شیخ
کچھ بنایا تو نہیں آب و گل اپنا ہم نے

سخت کافر کا دل افسوس نہ شرمایا کبھی
پوجا جوں بت تو بہت سنگ دل اپنا ہم نے

پانی پہنچا سکے جب تک مری چشم نمناک
جل بجھا پایا دل مشتعل اپنا ہم نے

بعد سو رنجش بے جا کے نہ پایا بغلط
نہ پشیمان تجھے منفعل اپنا ہم نے

در غریبی نہ تھا کچھ اور میسر حسرتؔ
عشق کی نذر کیا دین و دل اپنا ہم نے