EN हिंदी
شعور میں کبھی احساس میں بساؤں اسے | شیح شیری
shuur mein kabhi ehsas mein basaun use

غزل

شعور میں کبھی احساس میں بساؤں اسے

احمد ندیم قاسمی

;

شعور میں کبھی احساس میں بساؤں اسے
مگر میں چار طرف بے حجاب پاؤں اسے

اگرچہ فرط حیا سے نظر نہ آؤں اسے
وہ روٹھ جائے تو سو طرح سے مناؤں اسے

طویل ہجر کا یہ جبر ہے کہ سوچتا ہوں
جو دل میں بستا ہے اب ہاتھ بھی لگاؤں اسے

اسے بلا کے ملا عمر بھر کا سناٹا
مگر یہ شوق کہ اک بار پھر بلاؤں اسے

اندھیری رات میں جب راستہ نہیں ملتا
میں سوچتا ہوں کہاں جا کے ڈھونڈ لاؤں اسے

ابھی تک اس کا تصور تو میرے بس میں ہے
وہ دوست ہے تو خدا کس لیے بناؤں اسے

ندیمؔ ترک محبت کو ایک عمر ہوئی
میں اب بھی سوچ رہا ہوں کہ بھول جاؤں اسے