شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا
لمس آنکھوں کو بدن کا ذائقہ دینے سے کیا
ہو چکی ہے گم صدائے بازگشت غیب بھی
پتھروں کو اب کوئی نقش نوا دینے سے کیا
دھند کی گہری تہوں میں سارے پیکر دفن ہیں
اپنی بچھڑی ساعتوں کو اب صدا دینے سے کیا
اک نہال خستہ کی صورت کھڑا ہوں راہ میں
مجھ کو آنے والی رت کا آسرا دینے سے کیا
کون سمجھے گا مجھے تصویر ادھوری چھوڑ دوں
رنگ کوئی دائرہ در دائرہ دینے سے کیا
ایک دن کھا جائے گی موسم کی سنگینی انہیں
خوشبوؤں کو خواہش سیل صبا دینے سے کیا
بن گئی ہے بیعت باطل اساس وقعت رمزؔ
عرصۂ امکاں کو ذہن کربلا دینے سے کیا
غزل
شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا
محمد احمد رمز

