EN हिंदी
شعلے بھڑکاؤ دیکھتے کیا ہو | شیح شیری
shoale bhaDkao dekhte kya ho

غزل

شعلے بھڑکاؤ دیکھتے کیا ہو

اختر انصاری

;

شعلے بھڑکاؤ دیکھتے کیا ہو
جل اٹھے گھاؤ دیکھتے کیا ہو

غرق خوناب ہونے والی ہے
درد کی ناؤ دیکھتے کیا ہو

دل کسی یاد نے چھوا ہوگا
آگے بڑھ جاؤ دیکھتے کیا ہو

انجم چرخ فکر آدم کا
چل گیا داؤ دیکھتے کیا ہو

پئے بیٹھے ہیں زہر دوراں ہم
جام اٹھواؤ دیکھتے کیا ہو

حسن سے لو نظر کی بھیک اخترؔ
ہاتھ پھیلاؤ دیکھتے کیا ہو