EN हिंदी
شکستہ دل کسی کا ہو ہم اپنا دل سمجھتے ہیں | شیح شیری
shikasta dil kisi ka ho hum apna dil samajhte hain

غزل

شکستہ دل کسی کا ہو ہم اپنا دل سمجھتے ہیں

حنیف اخگر

;

شکستہ دل کسی کا ہو ہم اپنا دل سمجھتے ہیں
ترے غم میں زمانے بھر کے غم شامل سمجھتے ہیں

ہوئی ہیں اس قدر آسانیوں سے مشکلیں پیدا
ہر آسانی کو ہم اپنی جگہ مشکل سمجھتے ہیں

وہ خود دیکھے مگر اس کو کوئی نہ دیکھنے پائے
ترا انداز ہم اے پردۂ حائل سمجھتے ہیں

کسی کا ہاتھ زخموں پر کسی کا ہاتھ گردن میں
مسیحا کون ہے اور کون ہے قاتل سمجھتے ہیں

حد دل سے تو باہر درد تیرا ہو نہیں سکتا
جہاں تک درد ہے تیرا وہاں تک دل سمجھتے ہیں

مجال دید کی مہلت نہ دیں لیکن یہ کیا کم ہے
وہ ہم کو اپنی بزم ناز کے قابل سمجھتے ہیں

تعین حسن مقصد کا نہیں اس کے سوا کوئی
ٹھہر جائیں جہاں ہم بس اسے منزل سمجھتے ہیں

کہاں تک ہم مسلسل رخ بدلتے جائیں کشتی کا
وہی طوفاں نکلتا ہے جسے ساحل سمجھتے ہیں

انہیں فرصت کہاں یہ بھی غنیمت جانئے اخگرؔ
کہ وہ دل کو کسی تعزیر کے قابل سمجھتے ہیں