EN हिंदी
شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں | شیح شیری
shauq raaton ko hai dar pe ki tapan ho jaun

غزل

شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں

سراج الدین ظفر

;

شوق راتوں کو ہے در پے کہ تپاں ہو جاؤں
رقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤں

ساتھ اگر باد سحر دے تو پس محمل یار
اک بھٹکتی ہوئی آواز فغاں ہو جاؤں

اب یہ احساس کا عالم ہے کہ شاید کسی رات
نفس سرد سے بھی شعلہ بہ جاں ہو جاؤں

لا صراحی کہ کروں وہم و گماں غرق شراب
اس سے پہلے کہ میں خود وہم و گماں ہو جاؤں

وہ تماشا ہو ہزاروں مرے آئینے میں
ایک آئینے سے مشکل ہے عیاں ہو جاؤں

شوق میں ضبط ہے ملحوظ مگر کیا معلوم
کس گھڑی بے خبر سود و زیاں ہو جاؤں

ایسا انداز غزل ہو کہ زمانے میں ظفرؔ
دور آئندہ کی قدروں کا نشاں ہو جاؤں