EN हिंदी
شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا | شیح شیری
shauq jab jurat-e-izhaar se Dar jaega

غزل

شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا

منظور ہاشمی

;

شوق جب جرأت اظہار سے ڈر جائے گا
لفظ خود اپنا گلا گھونٹ کے مر جائے گا

تیز رفتار ہواؤں کو یہ احساس کہاں
شاخ سے ٹوٹے گا پتا تو کدھر جائے گا

یہ چمکتا ہوا سورج بھی مری شام کے بعد
رات کے گہرے سمندر میں اتر جائے گا

صرف اک گھر کو ڈبونا ہی نہیں کام اس کا
اب یہ سیلاب کسی اور کے گھر جائے گا

ہیں ہر اک سمت یہی لوگ یہی دنیا ہے
ان سے بچ کے کوئی جائے تو کدھر جائے گا

کام اتنا تو کرے گا یہ ابلتا ہوا خون
سارے منظر میں مرا رنگ تو بھر جائے گا