EN हिंदी
شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیا | شیح شیری
shart-e-diwar-o-dar-o-baam uTha di hai to kya

غزل

شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیا

ارشد عبد الحمید

;

شرط دیوار و در و بام اٹھا دی ہے تو کیا
قید پھر قید ہے زنجیر بڑھا دی ہے تو کیا

اب بھی تن تیغ سے لڑ جائے تو چھن بولتا ہے
وقت نے اس پہ اگر دھول جما دی ہے تو کیا

میرے خسرو نے مجھے غم بھی زیادہ بخشا
دولت عشق اگر مجھ کو سوا دی ہے تو کیا

ہم بھی تیار ہیں پھر جان لٹانے کے لیے
سامنے پھر وہی کوفہ وہی وادی ہے تو کیا

مجرم دل کو کہاں فیصلہ سننے کا دماغ
اس نے بخشا ہے تو کیا اور سزا دی ہے تو کیا