EN हिंदी
شہر پر رات کا شباب اترے | شیح شیری
shahr par raat ka shabab utre

غزل

شہر پر رات کا شباب اترے

عشرت آفریں

;

شہر پر رات کا شباب اترے
مجھ پہ تنہائی کا عذاب اترے

آنکھیں برسیں تو ٹوٹ کر برسیں
دھوپ اترے تو بے حساب اترے

ہم نئی فکر کے پیمبر ہیں
ہم پہ بھی اک نئی کتاب اترے

پسلیوں کے نحیف نیزوں پر
بھوک کے زرد آفتاب اترے

خوب تھا اہتمام دار و رسن
ہم وہاں سے بھی کامیاب اترے

شہر بہرا ہے لوگ پتھر ہیں
اب کے کس طور انقلاب اترے

آفریںؔ شعر وہ تو جھوٹے تھے
اب صداقت کا کوئی باب اترے