شہر میں ہم سے کچھ آشفتہ دلاں اور بھی ہیں
ساحل بحر پہ قدموں کے نشاں اور بھی ہیں
ریت کے تودے چمک اٹھتے ہیں جب ظلمت میں
ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ یہاں اور بھی ہیں
کیسے منظر تھے کہ شیشوں کی طرح ٹوٹ گئے
مگر آنکھوں میں کئی خواب گراں اور بھی ہیں
بستیاں دل کی بھی سنسان پڑی ہیں کب سے
یہ کھنڈر ہی نہیں سایوں کے مکاں اور بھی ہیں
شب کے سناٹے میں چٹانوں کو دیکھو اے زیبؔ
تم سے بیگانۂ فریاد و فغاں اور بھی ہیں

غزل
شہر میں ہم سے کچھ آشفتہ دلاں اور بھی ہیں
زیب غوری