EN हिंदी
شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں | شیح شیری
shahr mein aa hi gae hain to guzara kar len

غزل

شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں

شمیم عباس

;

شہر میں آ ہی گئے ہیں تو گزارا کر لیں
اب بہرحال ہر اک شے کو گوارا کر لیں

ڈھونڈتے ہی رہے گھر میں کوئی کھڑکی نہ ملی
ہم نے چاہا جو کبھی ان کا نظارہ کر لیں

اپنی تنہائی کا احساس ادھورا ہے ابھی
آئینہ توڑ دیں سائے سے کنارا کر لیں

اپنے جلتے ہوئے احساس میں تپتے تپتے
موم بن جائیں یا اپنے کو شرارہ کر لیں

زندگی تم سے عبارت ہے میری جاں لیکن
پھر بھی حسرت ہے یہی ذکر تمھارا کر لیں