شبنم میں چاندنی میں گلابوں میں آئے گا
اب تیرا ذکر ساری کتابوں میں آئے گا
جو لمحہ کھو گیا ہے اسے پھر نہ ڈھونڈھنا
جو چاند ڈھل چکا ہے وہ خوابوں میں آئے گا
دکھ دے رہی ہیں اس کی یہ برفیلی عادتیں
پگھلے گا ایک دن تو شرابوں میں آئے گا
پہچان بھی سکو گے نہیں اپنے نام کو
آئے گا بھی تو اتنے حجابوں میں آئے گا
جب تیرا نام حسن کی تاریخ بن گیا
پھر میرا ذکر دل کی کتابوں میں آئے گا

غزل
شبنم میں چاندنی میں گلابوں میں آئے گا
کشمیری لال ذاکر