EN हिंदी
شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں | شیح شیری
shamil tha ye sitam bhi kisi ke nisab mein

غزل

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں

عدیم ہاشمی

;

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں
تتلی ملی حنوط پرانی کتاب میں

دیکھوں گا کس طرح سے کسی کو عذاب میں
سب کے گناہ ڈال دے میرے حساب میں

پھر بے وفا کو بحر محبت سمجھ لیا
پھر دل کی ناؤ ڈوب گئی ہے سراب میں

پہلے گلاب اس میں دکھائی دیا مجھے
اب وہ مجھے دکھائی دیا ہے گلاب میں

وہ رنگ آتشیں وہ دہکتا ہوا شباب
چہرے نے جیسے آگ لگا دی نقاب میں

بارش نے اپنا عکس کہیں دیکھنا نہ ہو
کیوں آئنے ابھرنے لگے ہیں حباب میں

گردش کی تیزیوں نے اسے نور کر دیا
مٹی چمک رہی ہے یہی آفتاب میں

اس سنگ دل کو میں نے پکارا تو تھا عدیمؔ
اپنی صدا ہی لوٹ کر آئی جواب میں