EN हिंदी
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا | شیح شیری
sham ne jab palkon pe aatish-dan liya

غزل

شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا

راحتؔ اندوری

;

شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا
کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا

دروازوں نے اپنی آنکھیں نم کر لیں
دیواروں نے اپنا سینہ تان لیا

پیاس تو اپنی سات سمندر جیسی تھی
ناحق ہم نے بارش کا احسان لیا

میں نے تلووں سے باندھی تھی چھاؤں مگر
شاید مجھ کو سورج نے پہچان لیا

کتنے سکھ سے دھرتی اوڑھ کے سوئے ہیں
ہم نے اپنی ماں کا کہنا مان لیا