EN हिंदी
شام کے مسکن میں ویراں مے کدے کا در کھلا | شیح شیری
sham ke maskan mein viran mai-kade ka dar khula

غزل

شام کے مسکن میں ویراں مے کدے کا در کھلا

منیر نیازی

;

شام کے مسکن میں ویراں مے کدے کا در کھلا
باب گزری صحبتوں کا خواب کے اندر کھلا

کچھ نہ تھا جز خواب وحشت وہ وفا اس عہد کی
راز اتنی دیر کا اس عمر میں آ کر کھلا

بن میں سرگوشی ہوئی آثار ابر و باد سے
بند غم سے جیسے اک اشجار کا لشکر کھلا

جگمگا اٹھا اندھیرے میں مری آہٹ سے وہ
یہ عجب اس بت کا میری آنکھ پر جوہر کھلا

سبزۂ نورستہ کی خوشبو تھی ساحل پر منیرؔ
بادلوں کا رنگ چھتری کی طرح سر پر کھلا