EN हिंदी
شام کجلائی ہوئی رات ابھاگن جیسی | شیح شیری
sham kajlai hui raat abhagan jaisi

غزل

شام کجلائی ہوئی رات ابھاگن جیسی

عشرت قادری

;

شام کجلائی ہوئی رات ابھاگن جیسی
رت نہیں آتی کسی گاؤں میں ساون جیسی

رنگ ٹیسو میں کھلے ہیں تری چنری کی طرح
بن میں پھولوں کی مہک ہے ترے آنگن جیسی

اس کی آواز میں ہے سات سروں کا سنگیت
بات بھی وہ کرے تو بجتی ہے جھانجھن جیسی

رات کی ویشیا لاکھ آنکھوں میں کاجل پارے
صبح مانگ اپنی سجائے گی سہاگن جیسی

ایک پل بچھڑیں تو لگتا ہے یگوں کا بن باس
اور جب تک نہ ملیں رہتی ہے الجھن جیسی

تو الگ روٹھی ہوئی ہے وہ الگ روٹھا ہوا
گوری کس بات پہ ساجن سے ہے ان بن جیسی

آنچ سی لگتی ہے پہلو میں تری سانسوں کی
گھاؤ پر ٹھنڈی ہوا ہے ترے دامن جیسی

مری آنکھوں میں دل آویز سماں ہے عشرتؔ
پھولوں پر اوس کی ہر بوند ہے درپن جیسی