EN हिंदी
شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے | شیح شیری
sham-e-furqat intiha-e-gardish-e-ayyam hai

غزل

شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے

سیماب اکبرآبادی

;

شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے
جتنی صبحیں ہو چکی ہیں آج سب کی شام ہے

کوئے جاناں دیکھ کر جنت سے یوں مایوس ہوں
پوچھتا پھرتا ہوں کیا جنت اسی کا نام ہے

اس طرح دنیا ہے اک معمورۂ ناز و نیاز
ذرے ذرے پر مرا سجدہ تمہارا نام ہے

اللہ اللہ یہ تغافل اور اس پر یہ غرور
کیا مجھے ناکام کر دینا بھی کوئی کام ہے

ہاں نہیں سیمابؔ مجھ کو اپنی ہستی پر غرور
جانتا ہوں میں مری دنیا فنا انجام ہے