EN हिंदी
شاکی بدظن آزردہ ہیں مجھ سے میرے بھائی یار | شیح شیری
shaki bad-zan aazurda hain mujhse mere bhai yar

غزل

شاکی بدظن آزردہ ہیں مجھ سے میرے بھائی یار

شمیم عباس

;

شاکی بدظن آزردہ ہیں مجھ سے میرے بھائی یار
جانے کس جا بھول آیا ہوں رکھ کر میں گویائی یار

خاموشی کے صحرا چٹکی میں آوازوں کے جنگل
کتنی بستی اجڑی ہم سے کتنی ہم نے بسائی یار

دیکھو نا امیدی کو ایسے ٹھینگا دکھلاتے ہیں
اکثر اپنے گھر کی کنڈی خود ہم نے کھٹکائی یار

تنہائی میں اب بھی کوئی بالوں کو سہلاتا ہے
ہاتھ پکڑنا چاہیں تو ٹھٹھا مارے پروائی یار

آج اسے پھر دیکھا جس کو پہروں دیکھا کرتے تھے
اب کچھ وہ بھی ماند پڑا ہے کچھ اپنی بینائی یار

اچھی بستی اچھا گھر اچھے بچے اچھے حالات
جس کے دیکھو ساتھ لگی ہے اک خواہش آبائی یار

معنی کی دھجی بکھری اور لفظوں کے تانے بانے
رات تخیل نے مستی میں کی ہنگام آرائی یار