EN हिंदी
شاخ شاخ پر موسم گل نے گجرے سے لٹکائے تھے | شیح شیری
shaKH shaKH par mausam-e-gul ne gajre se laTkae the

غزل

شاخ شاخ پر موسم گل نے گجرے سے لٹکائے تھے

نور بجنوری

;

شاخ شاخ پر موسم گل نے گجرے سے لٹکائے تھے
میں نے جس دم ہاتھ بڑھایا سارے پھول پرائے تھے

کتنے درد چمک اٹھتے ہیں فرقت کے سناٹے میں
رات رات بھر جاگ کے ہم نے خود پہ زخم لگائے تھے

تیرے غموں کا ذکر ہی کیا اب جانے دے یہ بات نہ چھیڑ
ہم دیوانے ملک جنوں میں بخت‌ سکندر لائے تھے

دل کی ویراں بستی مجھ سے اکثر پوچھا کرتی ہے
بستے ہیں کس دیس میں اب وہ لوگ یہاں جو آئے تھے

پچھلی رات کو تارے اب بھی جھلمل کرتے ہیں
کس کو خبر ہے اک شب ہم نے کتنے اشک بہائے تھے

آج جہاں کی تاریکی سے دنیا بچ کر چلتی ہے
ہم نے اس ویران محل میں لاکھوں دیپ جلائے تھے

مجھ کو ان سے پیار نہیں ہے مجھ کو ان کے نام سے کیا
آنکھیں یوں ہی بھر آئی تھیں ہونٹ یوں ہی تھرائے تھے