EN हिंदी
سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کر | شیح شیری
saza hi di hai duaon mein bhi asar de kar

غزل

سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کر

افتخار نسیم

;

سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کر
زبان لے گیا میری مجھے نظر دے کر

خود اپنے دل سے مٹا دی ہے خواہش پرواز
اڑا دیا ہے مگر اس کو اپنے پر دے کر

نکل پڑے ہیں سبھی اب پناہ گاہوں سے
گزر گئی ہے سیہ شب غم سحر دے کر

اسے میں اپنی صفائی میں کیا بھلا کہتا
وہ پوچھتا تھا جو مہلت بھی مختصر دے کر

پکارتا ہوں کہ تنہا میں رہ گیا ہوں نسیمؔ
کہاں گیا ہے وہ مجھ کو مری خبر دے کر