EN हिंदी
سو کی اک بات میں کہی تو ہے | شیح شیری
sau ki ek baat main kahi to hai

غزل

سو کی اک بات میں کہی تو ہے

میر حسن

;

سو کی اک بات میں کہی تو ہے
یعنی جو کچھ کہ ہے وہی تو ہے

دید وا دیدہ کو غنیمت جان
حاصل زندگی یہی تو ہے

تیرے دیدار کے لئے یہ دیکھ
جان آنکھوں میں آ رہی تو ہے

ڈھ گیا ہو نہ خانۂ دل آج
سیل خوں چشم سے بہی تو ہے

واں بھی راحت ہو یا نہ ہو دیکھیں
اک مصیبت یہاں سہی تو ہے

مجھ سا عریاں کہاں ہے گل اس کے
رنگ کے بر میں اک یہی تو ہے

تیرے احوال سے حسنؔ بارے
اس کو تھوڑی سی آگہی تو ہے