EN हिंदी
سرشار ہوں چھلکتے ہوئے جام کی قسم | شیح شیری
sarshaar hun chhalakte hue jam ki qasam

غزل

سرشار ہوں چھلکتے ہوئے جام کی قسم

اختر انصاری

;

سرشار ہوں چھلکتے ہوئے جام کی قسم
مست شراب شوق ہوں خیام کی قسم

عشرت فروش تھا مرا گزرا ہوا شباب
کہتا ہوں کھا کے عشرت ایام کی قسم

ہوتی تھی صبح عید مری صبح پر نثار
کھاتی تھی شام عیش مری شام کی قسم

اخترؔ مذاق درد کا مارا ہوا ہوں میں
کھاتے ہیں اہل درد مرے نام کی قسم