EN हिंदी
سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے | شیح شیری
saron ki fasl kaTi ja rahi hai

غزل

سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے

محسنؔ بھوپالی

;

سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے
وہ دیکھو سرخ آندھی آ رہی ہے

ہٹا لو صحن سے کچے گھڑوں کو
کہیں ملہار سوہنی گا رہی ہے

مری دستار کیسے بچ سکے گی
قسم وہ میرے سر کی کھا رہی ہے

یہ برسے گی کہیں پر اور جا کر
گھٹا جو میرے سر پر چھا رہی ہے

سمجھ رکھا ہے کیا دیوانگی کو
یہ دنیا کیا ہمیں سمجھا رہی ہے

تمنا جلد مرنے کی ہے ہم کو
حیات اب تک یوں ہی بہلا رہی ہے