EN हिंदी
سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی | شیح شیری
sarhad-e-jalwa se jo aage nikal jaegi

غزل

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی

اعزاز افصل

;

سرحد جلوہ سے جو آگے نکل جائے گی
وہ نظر جرم رسائی کی سزا پائے گی

چشم ساقی نہ کہیں اپنا بھرم کھو بیٹھے
اور کب تک یہ مری پیاس کو بہلائے گی

جو نظر گزری ہے تپتے ہوئے نظاروں سے
کیا تصور کی گھنی چھاؤں میں سو جائے گی

کیوں رہیں شہر بھی فیضان جنوں سے محروم
عقل دیوانوں پہ پتھر ہی تو برسائے گی

ہے خزاں موسم افسردہ نگاہی کا نام
بجھ گیا شوق تو ہر شاخ جھلس جائے گی