سردی گرمی برکھا تینوں ایک ساتھ ہی بستے ہیں
تیرے بدن میں وہ جادو ہے سارے موسم رہتے ہیں
تیرے میرے بیچ نہیں ہے خون کا رشتہ پھر بھی کیوں
تیری آنکھ کے سارے آنسو میری آنکھ سے بہتے ہیں
ایک زمانہ بیتا تیرے پیار کے جنگل سے نکلے
یاد کے سانپ تو تنہائی میں آج بھی مجھ کو ڈستے ہیں
وعدہ کر کے بھول بھی جانا یہ تو تیری عادت ہے
میں ہی نہیں کہتا ہوں ایسا لوگ بھی اکثر کہتے ہیں
غزل
سردی گرمی برکھا تینوں ایک ساتھ ہی بستے ہیں
پریم بھنڈاری

