EN हिंदी
سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے | شیح شیری
sar shama san kaTaiye par dam na mariye

غزل

سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے

حیدر علی آتش

;

سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے
منزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریے

مقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سے
پھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے

طالب کو اپنے رکھتی ہے دنیا ذلیل و خوار
زر کی طمع سے چھانتے ہیں خاک نیاریے

تنہائی ہے غریبی ہے صحرا ہے خار ہے
کون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے

تم فاتحہ بھی پڑھ چکے ہم دفن بھی ہوئے
بس خاک میں ملا چکے چلئے سدھاریے