EN हिंदी
سنوارے آخرت یا زندگی کو | شیح شیری
sanware aaKHirat ya zindagi ko

غزل

سنوارے آخرت یا زندگی کو

پروین فنا سید

;

سنوارے آخرت یا زندگی کو
کہاں اتنی بھی مہلت آدمی کو

بجھائی آنسوؤں نے آتش غم
مگر بھڑکا دیا ہے بے کلی کو

بھرم کھل جائے گا دانائیوں کا
پکارو تو ذرا دیوانگی کو

جو سر جھکتا نہیں ہے دل تو جھک جائے
فقط اتنی طلب ہے بندگی کو

جو دل سے پھوٹ کر آنکھوں میں چمکے
ترستے رہ گئے ہم اس ہنسی کو