EN हिंदी
سنگ تھے پگھلے تو پانی ہو گئے | شیح شیری
sang the pighle to pani ho gae

غزل

سنگ تھے پگھلے تو پانی ہو گئے

شکیل اعظمی

;

سنگ تھے پگھلے تو پانی ہو گئے
ہم وہ چہرے جو کہانی ہو گئے

کھیل ہے اب ہر طرف تصویر کا
لفظ سارے بے معانی ہو گئے

بات کرنی تھی ہمیں جس سے بہت
ہم اسی کی بے زبانی ہو گئے

چند قطرے رہ گئے تھے آنکھ میں
وہ بھی دریا کی روانی ہو گئے

سبز موسم آ گیا تھا روم میں
آئنے بھی دھانی دھانی ہو گئے

آسماں پر رہ کے بھی تم خاک ہو
ہم زمیں پر آسمانی ہو گئے

چھاؤں میں گوتم کی کیا بیٹھے شکیلؔ
تھوڑے تھوڑے ہم بھی گیانی ہو گئے