EN हिंदी
سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی | شیح شیری
samundaron ke udhar se koi sada aai

غزل

سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی

پروین شاکر

;

سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی
دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی

سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے
کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی

اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں
یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی

اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا
محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی

کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے
اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی