EN हिंदी
سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو | شیح شیری
samjhaen kis tarah dil-e-na-karda-kar ko

غزل

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو

مبارک عظیم آبادی

;

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو
یہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو

نکلا چمک کے مہر قیامت بھی اور ہم
بیٹھے رہے چھپائے دل داغ دار کو

ساقی نہ مے نہ جام نہ مینا نہ میکدہ
آمد بہار کی ہو مبارک بہار کو

کیا کیا بگاڑ میں بھی ادائیں ہیں دل فریب
کتنے بناؤ آتے ہیں گیسوئے یار کو

ناصح کا امتحان مبارکؔ ہو ایک دن
تھوڑی پلا کے دیکھیے اس ہوشیار کو