سمے کی دھوپ میں کیسا بھی غصہ سوکھ جاتا ہے
مگر میں کیا کروں لہجہ بھی میرا سوکھ جاتا ہے
اسے تالاب جھرنے جھیل سے جھڑنا ضروری ہے
سفر میں تنہا چلنے والا دریا سوکھ جاتا ہے
بھروسہ ایک مرہم کی طرح موجود رہتا ہے
اگر یہ پاس ہو تو زخم سارا سوکھ جاتا ہے
اصولوں کی چمک جاتے ہی چہرا بجھ گیا اس کا
جڑیں کٹتے ہی جیسے پیڑ سارا سوکھ جاتا ہے
کوئی کیسا بھی رشتہ ہو نمی بے حد ضروری ہے
ہوا روکھی ہو تو کوئی بھی پودا سوکھ جاتا ہے
غزل
سمے کی دھوپ میں کیسا بھی غصہ سوکھ جاتا ہے
پرتاپ سوم ونشی

