EN हिंदी
سمجھ کے دیکھو اے عارفاں تم کیا ہے حق نے یہ بھید کیسا | شیح شیری
samajh ke dekho ai aarifan tum kiya hai haq ne ye bhed kaisa

غزل

سمجھ کے دیکھو اے عارفاں تم کیا ہے حق نے یہ بھید کیسا

علیم اللہ

;

سمجھ کے دیکھو اے عارفاں تم کیا ہے حق نے یہ بھید کیسا
اپے ہے اول اپے ہے آخر اپے چہ مخفی اپے چہ پیدا

اپے کہا کن اپے چہ فیکوں اپے ہے صانع اپے ہے صنعت
اپے احد اور اپے چہ احمد اپے ہے آدم اپے ہے حوا

اپے ہے مطلب اپے ہے طالب اپے ہے دل کش اپے ہے عاشق
اپے چہ مجنوں اپے چہ لیلہ اپے ہے یوسف اپے زلیخا

اپے چہ کہتا اپے چہ سنتا اپے ہے دانا اپے ہے بینا
اپے چہ قایم رہے ہمیشہ اپے چہ قادر اپے توانا

علیمؔ مت کہہ یہ راز مخفی پیا کی الفت میں رہ سدا تو
اگر سنے اس سخن کو غافل گڑھے گا اوس پر کٹھن معما