EN हिंदी
سلیقہ اتنا تو اے شوق خوش کلام آئے | شیح شیری
saliqa itna to ai shauq-e-KHush-kalam aae

غزل

سلیقہ اتنا تو اے شوق خوش کلام آئے

اعزاز افصل

;

سلیقہ اتنا تو اے شوق خوش کلام آئے
انہیں کی بات ہو لیکن نہ ان کا نام آئے

خرد بھی گوش بر آواز وقت تھی لیکن
پیام جتنے بھی آئے جنوں کے نام آئے

نہ چل سکا کوئی میری نگاہ شوق کے ساتھ
تمہارے جلوے بھی آئے تو چند گام آئے

نہ جانے حسن حقیقت کی جلوہ گاہ سے کیوں
فسانے جتنے بھی آئے وہ ناتمام آئے

کسی نے صبح سنواری کسی نے شام اپنی
مری نظر کے اجالے سبھوں کے کام آئے