EN हिंदी
سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں | شیح شیری
salamat hai sar to sirhane bahut hain

غزل

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی

;

سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
مجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں

جو تشریف لاؤ تو ہے کون مانع
مگر خوئے بد کو بہانے بہت ہیں

اثر کر گئی نفس رہزن کی دھمکی
کہ یاں مرد کم اور زنانے بہت ہیں

معطل نہیں بیٹھتے شغل والے
شکار افگنوں کو نشانے بہت ہیں

کرو دل کے ویرانے کی کنج کاوی
دبے اس کھنڈر میں خزانے بہت ہیں

نہ اے شمع رو رو کے مر شام ہی سے
ابھی تجھ کو آنسو بہانے بہت ہیں

ہوا میری روداد پر حکم آخر
کہ مشہور ایسے فسانے بہت ہیں

نہیں ریل یا تار برقی پے موقوف
چھپے قدرتی کارخانے بہت ہیں

بچے کیونکہ بے چارہ مرغ گرسنہ
بہ کثرت ہیں دام اور دانے بہت ہیں

بس اک آستانہ ہے سجدہ کے قابل
زمانہ میں گو آستانے بہت ہیں