EN हिंदी
سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو | شیح شیری
sajde tere kahne se main kar lun bhi to kya ho

غزل

سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو

قمر جلالوی

;

سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا ہو
تو اے بت کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو

غنچے کے چٹکنے پہ نہ گلشن میں خفا ہو
ممکن ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو

کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو
تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو

انساں کسی فطرت پہ تو قائم ہو کم از کم
اچھا ہو تو اچھا ہو برا ہو تو برا ہو

اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی
جو حشر کہ ظالم ترے کوچے سے اٹھا ہو

اترا کے یہ رفتار جوانی نہیں اچھی
چال ایسی چلا کرتے ہیں جیسی کہ ہوا ہو

مے خانے میں جب ہم سے فقیروں کو نہ پوچھا
یہ کہتے ہوئے چل دیئے ساقی کا بھلا ہو

اللہ رے او دشمن اظہار محبت
وہ درد دیا ہے جو کسی سے نہ دوا ہو

تنہا وہ مری قبر پہ ہیں چاک گریباں
جیسے کسی صحرا میں کوئی پھول کھلا ہو

منصور سے کہتی ہے یہی دار محبت
اس کی یہ سزا ہے جو گنہ گار وفا ہو

جب لطف ہو اللہ ستم والوں سے پوچھے
تو یاس کی نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہو

فرماتے ہیں وہ سن کے شب غم کی شکایت
کس نے یہ کہا تھا کہ قمرؔ تم ہمیں چاہو