سجدے جبین شوق کے اب رائیگاں نہیں
تو بے حجاب انجمن آرا کہاں نہیں
میں میر کارواں ہوں پس کارواں نہیں
ہاتھوں میں میرے دامن منزل کہاں نہیں
موجودگئ جنت و دوزخ سے ہے عیاں
رحمت ہے ایک بحر مگر بیکراں نہیں
چاہے حجاب میں رہو تو چاہے بے حجاب
ہم تم ہی تو ہیں اور کوئی درمیاں نہیں
برق جمال دوست نہ ہو اس پہ شعلہ زن
تیرا بھی گھر ہے صرف مرا آشیاں نہیں
دلچسپیاں بہت سی ہیں اس اختصار میں
کچھ غم نہیں شباب اگر جاوداں نہیں
ساکت فلک کو مفت میں ظالم بنا دیا
گردش میں ہے زمین فقط آسماں نہیں
ناکام تر ہیں میری شکستہ نصیبیاں
مخمورؔ صرف زیست ہی نا کامراں نہیں

غزل
سجدے جبین شوق کے اب رائیگاں نہیں
مخمور جالندھری