EN हिंदी
سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا | شیح شیری
sair-gah-e-duniya ka hasil-e-tamasha kya

غزل

سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا

اختر سعید خان

;

سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا
رنگ و نکہت گل پر اپنا تھا اجارا کیا

کھیل ہے محبت میں جان و دل کا سودا کیا
دیکھیے دکھاتی ہے اب یہ زندگی کیا کیا

جب بھی جی امڈ آیا رو لیے گھڑی بھر کو
آنسوؤں کی بارش سے موسموں کا رشتہ کیا

کب سر نظارہ تھا ہم کو بزم عالم کا
یوں بھی دیکھ کر تم کو اور دیکھنا تھا کیا

درد بے دوا اپنا بخت نارسا اپنا
اے نگاہ بے پروا تجھ سے ہم کو شکوہ کیا

بے سوال آنکھوں سے منہ چھپا رہے ہو کیوں
میری چشم حیراں میں ہے کوئی تقاضا کیا

حال ہے نہ ماضی ہے وقت کا تسلسل ہے
رات کا اندھیرا کیا صبح کا اجالا کیا

جو ہے جی میں کہہ دیجے ان کے روبرو اخترؔ
عرض حال کی خاطر ڈھونڈیئے بہانہ کیا