EN हिंदी
صحراؤں نے مانگا پانی | شیح شیری
sahraon ne manga pani

غزل

صحراؤں نے مانگا پانی

فہمی بدایونی

;

صحراؤں نے مانگا پانی
دریاؤں پر برسا پانی

بنیادیں کمزور نہیں تھیں
دیواروں سے آیا پانی

آخر کس کس نیم کی جڑ میں
کب تک ڈالیں میٹھا پانی

چھت کا حال بتا دیتا ہے
پرنالے سے گرتا پانی

فکر و مسائل یاد جاناں
گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی

پیاسے بچہ کھیل رہے ہیں
مچھلی مچھلی کتنا پانی