EN हिंदी
صحرا سے چلے ہیں سوئے گلشن | شیح شیری
sahra se chale hain su-e-gulshan

غزل

صحرا سے چلے ہیں سوئے گلشن

اثر لکھنوی

;

صحرا سے چلے ہیں سوئے گلشن
خونیں جگران چاک دامن

پیغام بہار دے رہی ہے
داغوں کی جھلک دلوں کی الجھن

رقصاں ہے نسیم برگ گل پر
شبنم میں ہے گھنگھروؤں کی چھن چھن

غنچوں کے بدن میں سنسنی ہے
مستی میں چھوا صبا نے دامن

دل کش نہ ہو کیوں کلام اثرؔ کا
سیکھا ہے یہ اس نے میرؔ سے فن