EN हिंदी
سحر تک اس پہاڑی کے عقب میں رو کے آتا ہوں | شیح شیری
sahar tak us pahaDi ke aqab mein ro ke aata hun

غزل

سحر تک اس پہاڑی کے عقب میں رو کے آتا ہوں

رفیق سندیلوی

;

سحر تک اس پہاڑی کے عقب میں رو کے آتا ہوں
میں نقطہ ہائے گریہ پر اکٹھا ہو کے آتا ہوں

ادھر رستے میں چوتھے کوس پر تالاب پڑتا ہے
میں خاک اور خون سے لتھڑی رکابیں دھو کے آتا ہوں

یہاں اک دشت میں فرعون کا اہرام بنتا ہے
میں اپنی پشت پر چوکور پتھر ڈھو کے آتا ہوں

ابھی کچھ بازیابی کا عمل معکوس لگتا ہے
میں جب بھی ڈھونڈنے جاتا ہوں خود کو کھو کے آتا ہوں

جہاں پرچھائیں تک پڑتی نہیں ہے خاک زادوں کی
اسی خالی کرے پر سات موسم سو کے آتا ہوں