EN हिंदी
سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات | شیح شیری
sahar se raat ki sargoshiyan bahaar ki baat

غزل

سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات

مخدومؔ محی الدین

;

سحر سے رات کی سرگوشیاں بہار کی بات
جہاں میں عام ہوئی چشم انتظار کی بات

دلوں کی تشنگی جتنی دلوں کا غم جتنا
اسی قدر ہے زمانے میں حسن یار کی بات

جہاں بھی بیٹھے ہیں جس جا بھی رات مے پی ہے
انہی کی آنکھوں کے قصے انہی کے پیار کی بات

چمن کی آنکھ بھر آئی کلی کا دل دھڑکا
لبوں پہ آئی ہے جب بھی کسی قرار کی بات

یہ زرد زرد اجالے یہ رات رات کا درد
یہی تو رہ گئی اب جان بے قرار کی بات

تمام عمر چلی ہے تمام عمر چلے
الٰہی ختم نہ ہو یار غم گسار کی بات