EN हिंदी
سہارے جانے پہچانے بنا لوں | شیح شیری
sahaare jaane-pahchane bana lun

غزل

سہارے جانے پہچانے بنا لوں

فہمی بدایونی

;

سہارے جانے پہچانے بنا لوں
ستونوں پر ترے شانے بنا لوں

اجازت ہو تو اپنی شاعری سے
ترے دو چار دیوانے بنا لوں

ترا سایہ پڑا تھا جس جگہ پر
میں اس کے نیچے تہہ خانے بنا لوں

ترے موزے یہیں پر رہ گئے ہیں
میں ان سے اپنے دستانے بنا لوں

ابھی خالی نہ کر خود کو ٹھہر جا
میں اپنی روح میں خانے بنا لوں