سفر کا خواب تھا آب رواں پہ رکھا تھا
کوئی ستارہ کھلے بادباں پہ رکھا تھا
بھلا گیا ہے مجھے گفتگو کے سارے مزے
بس ایک لفظ تھا پل بھر زباں پہ رکھا تھا
وہ ایک خاک سا منظر بس اب بہت ہے مجھے
اٹھا کے جو کبھی قرطاس جاں پہ رکھا تھا
میں کیا گیا کہ ہوا خشک چشمۂ مہتاب
ابھی تو پہلا قدم آسماں پہ رکھا تھا
اسی کو شاہیںؔ مقرر کیا ہے جائے وصال
کنارۂ شب ہجراں جہاں پہ رکھا تھا
غزل
سفر کا خواب تھا آب رواں پہ رکھا تھا
جاوید شاہین

