EN हिंदी
صف حیات سے جب کوئی تشنہ کام آیا | شیح شیری
saf-e-hayat se jab koi tishna-kaam aaya

غزل

صف حیات سے جب کوئی تشنہ کام آیا

آنند نرائن ملا

;

صف حیات سے جب کوئی تشنہ کام آیا
نظام ساقئ محفل پہ اتہام آیا

ملا بھی تو وہ غم زندگی کے کام آیا
مرے لیے ہر اک آنسو میں ایک جام آیا

لب کلیم پہ آیا نہ پھر سوال کوئی
ہزار برق پشیماں کا پھر پیام آیا

عدو کو بخش دیے ہم نے کوثر و تسنیم
یہ کس کے ہونٹوں کو چھو کر ہمارا جام آیا

کھڑا ہوں دیر سے گم زیست کے دوراہے پر
جو کارواں سے چھٹاتا ہے وہ مقام آیا

کوئی مصور‌ ہستی کا شاہکار بھی ہے
ابھی تلک تو ہر اک نقش نا تمام آیا

حریف بن کے جہاں جب مٹا سکا نہ ہمیں
تو دوست بن کے محبت کا لے کے نام آیا

مجھے مٹا کے وہ تھوڑی ہی دیر خوش سے رہے
پھر اس کے بعد محبت کا انتقام آیا

خوشا وہ ساعت‌ فردوس جب کہ پہلے پہل
کسی کے لب پہ ذرا رک کے اپنا نام آیا

رہ حیات ہے سونی مقام عشق کے بعد
یہاں تلک تو ہر اک دل سبک خرام آیا

ہنسوں کہ روؤں میں اپنی حیات پر ملاؔ
ہوا سے بچ کے سحر تک چراغ شام آیا